ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کے بیان پر ہنگامہ مودی سے جواب کا مطالبہ-راجیہ سبھا سے حزب اختلاف کا بائیکاٹ

مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کے بیان پر ہنگامہ مودی سے جواب کا مطالبہ-راجیہ سبھا سے حزب اختلاف کا بائیکاٹ

Wed, 24 Jul 2019 11:11:56    S.O. News Service

نئی دہلی،24؍جولائی (ایس او نیوز؍یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرانے کے بارے میں دئے گئے بیان کی وجہ سے منگل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو دونوں ایوانوں میں صفائی دینی پڑی- لیکن راجیہ سبھا میں حزب اختلاف اس سے مطمئن نہیں ہوئے اور اس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس مسئلے پر بیان دینے کی مانگ کا سلسلہ جاری رکھا - آخر میں کانگریس کی قیادت میں پوری اپوزیشن نے ایوان کا بائیکاٹ کردیا-تین بار ملتوی ہونے کے بعد، جب 3بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو راجیہ سبھا میں حزب اختلاف نے مودی کو ایوان میں بلاکر بیان دینے کا مطالبہ کیا اور ہنگامہ شروع کردیا-قبل ازیں صبح ہی دونوں ایوانوں میں جے شنکر نے کہا کہ مودی نے ٹرمپ کے سامنے ایسی کوئی تجویز نہیں پیش کی ہے اور کشمیر سے متعلق ہندوستان کے رخ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے -جے شنکر نے اپنے بیان میں کہا کہ پیر کی شام کو وزارت خارجہ کو امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بارے میں معلوم ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان درخواست کرے تو امریکہ کشمیر کے معاملہ پر ثالثی کے لئے تیار ہے - وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ ایوان کو صاف الفاظ میں بتانا چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم نے کبھی بھی اس طرح کی درخواست نہیں کی- ہندوستان کی ہمیشہ سے یہی پوزیشن رہی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان زیر التوا تمام ایشوز کا حل دو طرفہ سطح پر ہی ہوگا- انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بھی بات چیت تب ہی ہو سکتی ہے، جب وہ سرحد پار دہشت گردی ختم کر دے - وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تمام مسائل کے دو طرفہ سطح پر حل کی بنیاد شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلامیہ ہے - انہوں نے امید ظاہر کی کہ اراکین ان کی یقین دہانی سے مطمئن ہوجائیں گے -اس سے پہلے آنند شرما نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان سے پورا ملک سکتہ میں ہے - ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران کہا کہ اوساکا میں ہندوستان کے وزیر اعظم نے ان سے کشمیر معاملہ پر ثالثی کی درخواست کی تھی- ٹرمپ نے خان سے پوچھا کہ کیا پاکستان بھی امریکہ کی ثالثی کے لئے تیار ہے اس پر مسٹر خان نے کہا کہ پاکستان بھی اس کے لئے تیار ہے -کانگریس رکن نے کہا کہ ہندوستان کا اس معاملہ پر واضح موقف رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دو طرفہ ہے اور اس کا حل دونوں کے درمیان بات چیت سے ہی ہوگا- دونوں ایوانوں نے بھی اتفاق رائے سے قرارداد منظور کئے ہیں - انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر ان کی سیاست کی منشا نہیں ہے لیکن ٹرمپ کے بیان کے سنگین نتائج ہوں گے - پارلیمنٹ کا سیشن چل رہا ہے اور وزیر اعظم کو خود ایوان میں آکر پوزیشن واضح کرنی چاہئے -راجہ نے بھی کہا کہ یہ سنگین مسئلہ ہے اور اس پر پورے ملک کو متحد ہونا چاہئے - انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ملک کا موقف طویل عرصہ سے واضح رہا ہے کہ یہ دو طرفہ مسئلہ ہے اور تمام دو طرفہ مسائل کا حل دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے ہی ممکن ہوگا- امریکی صدر نے جو دعویٰ کیا ہے وہ سنگین ہے اور اس معاملہ پر وزیر خارجہ کا بیان کافی نہیں ہے، وزیر اعظم کو خود آکر پوزیشن واضح کرنی چاہئے-


Share: